بنگلورو،3؍ جولائی(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت دریائے کاویری سے تملناڈو کو پانی فراہم کرنا ہر گز نہیں چاہتی، لیکن سپریم کورٹ کی ہدایت کی تعمیل میں وہ ایسا کرنے پر مجبور ہے۔ آج ہاسن میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہاکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اگر نہ ہوتا تو تملناڈو کو پانی فراہم کرنا ناممکن ہوتا، لیکن بدقسمتی سے عدالت عظمیٰ نے ایسا فیصلہ صادر کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کرناٹک نے اگر تملناڈو کو پانی فراہم نہیں کیاتو وہ دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع ہوگی اور اس کی وجہ سے عدالت عظمیٰ کی طرف سے کوئی ا ور حکم آسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں مختلف مقامات پر بارش کچھ حد تک ہوئی ہے، اسی وجہ سے حکومت نے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تملناڈو کو پانی فراہم کرنے کی پہل کی ہے، لیکن پانی کی فراہمی کے مرحلے میں کسی بھی طرح کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور یہ یقینی بنایا جائے گا کہ تملناڈو کو فراہم ہونے والے پانی سے ریاست میں کاشتکاری کی سرگرمیاں ہرگز متاثر نہ ہونے پائیں۔ میکے ڈاٹ پراجکٹ کے متعلق ایک سوال پر سدرامیا نے کہاکہ شروع میں اس پراجکٹ کا کافی والہانہ استقبال کیاگیا۔مرکزی حکومت کی طرف اس کیلئے اب تک منظوری نہیں ملی ہے، منظوری ملتے ہی پراجکٹ شروع کردیا جائے گا اور جلد از جلد اس علاقہ کے لوگوں کو پینے کے پانی اور بجلی مہیا کرانے کیلئے ضروری قدم اٹھائے جائیں گے۔ اگلے اسمبلی انتخابات میں ریاست کے اقتدار پر آنے بی جے پی کے دعوے کو اس کا خواب قرار دیتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ کانگریس ریاست کے اقتدار پر برقرار رہے گی ، اگلے انتخابات میں جیت کے متعلق میڈیا کے ذہنوں میں جو اعداد وشمار ہیں انہیں کانگریس پارٹی اپنی جدوجہد کے ذریعہ بدل کر رکھ دے گی اور یہ یقینی بنائے گی کہ عوام کی امنگوں کو پورا کرتے ہوئے حکومت ان کی توقعات پر کھری اترے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں کو آواز دی کہ وہ اپنے اور عوام کے درمیان خلیج کو پر کریں اور حکومت کی فلاحی اسکیمیں عوام تک پہنچائیں۔